یہ ویب سائیٹ صاحب عقل وفہم وفراست قارئین کے لئے انسان ساز انمول تحفہ ہے

استاد حضرت علامہ

محمد صادق حیدری

یہ قریبا بیسویں کا وسط تھا اور سال 1955 ء کہ جس عظیم سال کو یہ شرف نصیب ہوا کہ جب افق عالم پر ایک گوہر بے پایاں، ایک بحر بے کراں، ایک چشم ماہتاب، وہ جلال آفتاب اور نوری ہستی کا ظہور ہوااس انسان کامل فیلسوف الہی، محقق اعظم اور عارف ربانی نے آنکھیں کھولیں کہ بقول حضرت علامہ محمد اقبال ؒ جس کے لئے یہ کائنات ہزار ہا سال اپنی بے نوری پر آنسو بہاتی رہی تب کہیں جا کر اس کی تڑپ نے دم توڑا، آخر کار گلشن کائنات میں ایک بہشتی مہک نے آبسیرا کیا اور نور ہی نور چار سو ہوگیا، صوبہ سندھ کے ٖضلع خیرپور کے ایک گاؤں ، گوٹھ منشی عبداللہ کے ایک جفاکش اور محنتی زمیندار کا شتکار گھرانے میں اس دیدور نے آنکھیں کھولیں، جس کا نام محمد صادق رکھا گیا، آپ کے والد صاحب کا نام غلام محمد آرائیں، جو کہ کھیتی باڑی سے وابستہ زمیندار تھے اور ذاتی زمین کے مالک تھے، آپ کا خاندان اہل سنت والجماعت سے وابستہ ہے ، اور آپ کا آرائیں برادری سے تعلق ہے آپ کی ساری برادری لاہور،فیصل آباد، قصور ،پتوکی، سمندری اور اوکاڑہ کے گردونواح تک پھیلی ہوئی ہے 1931 ء میں آپ کے آقائے استاد کے دادا الہی بخش لاہور میں آپ کے آبائی محلہ محمود بوٹی میں رہتے تھے چونکہ آپ کا سارا خاندان زراعت سے وابستہ رہا اور ہے اسی تناظر میں آپ کے دادا لاہور سے 1931 ء میں قصور ،فیصل آباد اور وہاں سے سندھ کی طرف روانہ ہوئے تاکہ وہاں پر موجود بنجر زمینوں کو اپنے خاندانی فن ِ زراعت کو بروئے کار لاتے ہوئے آباد کریں آپ کے والد صاحب بھی سندھ میں پیدا ہوئے

1961 ء میں گوٹھ منشی عبداللہ کے گورنمنٹ پرائمری سکول میں آپ کو داخل کروایا گیا پرائمری تعلیم اردو میں حاصل کی آپ شروع ہی سے سخت محنت کے عادی تھے آپ اس بارے میں فرماتے ہیں کہ زمیندار گھرانے سے تعلق کی وجہ سےبچپن ہی سے میں محنتی اور کام کرنے کا عادی تھا والد صاحب کے ساتھ کام کاج میں ان کا ہاتھ بٹاتا تھا لہذا اسکول سے واپسی کے بعد میرے پاس بہت کم وقت بچتا تھا صبح سویرے سب کام نپٹاتا تھا پھر روزانہ سکول پانچ منٹ پہلے پہنچتا تھا اور رات کو بڑی مشکل سے پڑھائی کے لئے ایک گھنٹہ ملتا تھا مزید آپ فرماتے ہیں کہ ذہنی کام یعنی انگلش ،ریاضی ،عربی اور سائنس کے مضامین ابتدا ہی سے میرے لئے ایک کھلونہ تھے ریاضی مضمون میں ذہن بہت زیادہ چلتا تھا ایک دفعہ پڑھ لیتا تو دوبارہ پڑھنے کی ضرورت پیش نہ آتی تھی چھٹی سے آٹھویں جماعت تک آپ گورنمنٹ مڈل سکول گوٹھ شتابو تحصیل گمبٹ ضلع خیر پور میں زیر تعلیم رہے آپ فرماتے ہیں کہ گورنمنٹ ناز ہائی سکول خاص گمبٹ شہر میں جماعت نہم سائنس گروپ کے پنتیس ہم جماعتوں کے سہ ماہی یا ششماہی امتحان میں صرف دو طالب علم ہی پاس ہوئے جن میں سے پہلی پوزیشن کے ساتھ پاس ہوا

ابھی اس کلاس میں سات ماہ ہی پڑھے تھے کہ آپ کے والد علیل ہوگئے اور 1970 ء میں سکول کو گھر کے کاموں کی سربراہی کی وجہ سے چھوڑنا پڑا چونکہ آپ اپنے والدین کے بڑے فرزند تھے پس ذمہ داری کی وجہ سے میٹرک مکمل نہ کرسکے 1970 ء سے 1980 ء تک دس سال تک تعلیم کا سلسلہ منقطع ہوگیا یوں یہ دس سال سکول کی تعلیم کے بغیر اپنی زمینوں میں زراعت کی ، آپ کے اساتذہ افسوس کے ہاتھ ملتے اور کہتے کہ حیدری اگر سکول میں رہتا اور اس کو موقع ملتا کہ جس طرح اس کا ذہن کام کرتا تھا یہ کسی مرتبے تک پہنچتا ، اور بڑا آدمی یا ماہر ریاضی بنتا، امتحانی پرچہ کو سب سے پہلے حل کرتے تھے جس پر استاد حیران ہوتے تھے آپ بتاتے ہیں مڈل میں امتحانات میں دھاندلی ہوئی ورنہ میں گمبٹ میں فرسٹ آتا ، علم معقولات میں بچپن ہی سے گہری دلچسپی تھی فرماتے ہیں کہ ساتویں جماعت میں الجبرا ء کا ایک مسئلہ استاد سے حل نہیں ہورہا تھا استاد نے پیپر میں دے دیا ، میں نے فارمولے کی مدد سے حل کر لیا پیپر دیا تو استاد نے فورا وہ سوال دیکھا الحمداللہ حل ہوا تھا استاد نے مجھے واپس بلا لیا کہ کیسے کیا میں نے بتا یا کہ فارمولے کی مدد سے ، سب اساتذہ نے دیکھا تو واقعی وہ ٹھیک تھا وہ بہت حیران ہوئے اور خوش بھی،

فرماتے ہیں کہ میں جب ساتویں جماعت میں تھا تب میں نے مذہب شیعہ اختیار کیا یہ 1967 ءکی بات ہے جب میں بدنی بالغ ہوا وہاں شیعہ دوست تھے جن سے بحث اور مباحثہ اور مناظرہ کرکے میں نے شیعت اختیار کی باقی برادری اہل سنت ہی ہے ،سکول کی تعلیم کا سلسلہ منقطع تو ہوا لیکن دینی ومذہبی کتابوں کا مطالعہ جاری رہا ، آپ فرماتے ہیں کہ مجھے شروع ہی سے دینی کتب کے مطالعہ کا شوق تھا ، اسی شوق کی تکمیل کے لئے امامیہ کتب خانہ موچی گیٹ لاہور اور ملتان سے اکثر دینی کتب منگواتا تھا ، الحمداللہ خاص کر مناظرانہ و تاریخی معلومات اور مذہب تشیع کے تحقیقی حقائق اور مذہب کے دفاع کےلئے مطالعہ مقصود تھا میرے ذہن میں انقلاب انہی مناظرانہ کتب ، شیعت کے حقائق اور اس دفاع کے موضوعات کے مطالعے سے آیا اس سلسلے میں مزید فرماتے ہیں کہ 1967 ءمیں ایک شیعہ ہیڈ ماسٹر محترم علی مدد صاحب نے کہا کہ آپ کی اردو بہت اچھی ہے انہوں نے جسٹس (ر) سلطان مرزا صاحب کی کتاب البلاغ المبین کی پہلی جلد دی کہا کہ اس کا مطالعہ کریں ، اس کتاب کو پڑھ کر پھر میں مذہبی شیعی جزئیات سے آگاہ ہوا ، البلاغ المبین کی باقی تینوں جلدیں لاہور سے منگوائیں کچھ اور کتابیں بھی منگوائیں مذہب تشیع اختیار کرنے کے بارے میں فرماتے ہیں :

مذہب تشیع میرا طرہ ء امتیازہے تشیع اختیار کرنے سے میرا ذہن پستی سے بلندی کی طرف آیا لسان اللہ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کے مقدس کلام پر مشتمل کتاب نھج البلاغہ جو کہ امیرالمومنین کا مقدس کلام ہے یہی کلام خود میرا حوزہ کی طرف بڑھانے کا سبب بنا ، مولا ؑ کے خطبات نے مجھے علم ودوست بنایا اور علم دوست بنایا اور علم کی طرف تشویق دلائی 1973ء میں علاقے میں بڑا سیلاب آیا سب راستے کٹے ہوئے تھے وہاں آپ نے رات گزاری ،اس واقع کے بارے میں فرماتے ہیں : مطالعہ سے لگاؤ تھا اورمجھے جعفریہ کتب خانہ جو مین بازار میں تھا کا پتہ یا د تھا پوچھتے پوچھتے گیا اور وہاں سے نھج البلاغہ خریدی ، اس نھج البلاغہ نے خود میرے اندر انقلاب برپا کیا !! نھج البلاغہ خود میں اس جوش کے ساتھ تلاوت کرتا تھا کہ جیسے امیرالمومنین ؑ کی آواز خود میرے کانوں میں گونج رہی ہو!ایک جوش تھا ! میرے رونگٹے کھڑے ہوجاتے تھے ! کئی دفعہ میں نے نہج البلاغہ کی اردو ترجمے کے ساتھ تلاوت کی ،
1975ء میں آپ نے اپنے گاؤں میں امام بارگاہ تعمیر کروائی مجالس کا انعقاد کیا سندھ شیعہ آرگنائزیشن کے بانی سید امام علی شاہ لکیاری خود سیاسی ومذہبی جاگیردار تھے جنہوں نے وہاں شیعت کا دفاع کیا وہ تین سال تک آپ کی مجالس میں آتے تھے
آپ فرماتے ہیں دلچسپ بات یہ ہے کہ امام علی شاہ میرے پاس اس شرط پر علم عباس کا افتتاح کے لئے آئے کہ میں وہاں مجالس بھی کرایا کروگے ، میں راضی ہوگیا ایسے ہی محترم حسین بخش صوفی جو ایک تہجد گزار باتقوی شخصیت اور ذاکر تھے ان کی مولانا یار محمد شاہ مرحوم سے قریبی دوستی تھی وہ بھی خود تین سال آتے رہے

1980 ء تک آپ وہاں عزاداری کراتے رہے زیادہ تر مجالس میں علما ء حضرات ہی پڑھتے تھے آپ فرماتے ہیں کام کاج کرکے میں شوق سے مجالس سنتا تھا ، عزاداری کے لئے پانچ ، دس دس کلومیٹر تک پیدل مسافت طے کرتا تھا حتی کہ امام علی شاہ وشیعہ بزرگان سب معترف تھے کہ میں مذہب شیعہ پر اٹھنے والے سارے سوالات کے جوابات جانتا ہوں کہتے تھے حیدری کی علمی سطح جدی پشتی شیعوں کہیں بلند ہے : الحمداللہ : حا لانکہ وہاں نشے و پتے کا ماحول تھا مگر اللہ نے ان سے محفوظ رکھا،